متحدہ عرب امارات نے پہلی ششماہی میں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت کے انسداد میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی: حامد الزعابی

متحدہ عرب امارات نے پہلی ششماہی میں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت کے انسداد میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی:  حامد الزعابی

ابوظہبی، 18 ستمبر، 2023 (وام) ۔۔ انسداد منی لانڈرنگ و کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ کے ایگزیکٹو آفس ( ای او اے ایم ایل سی ٹی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل حامد الزعابی کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں ہونے والی پیش رفت کاجامع جائزہ مکمل کر لیا ہے جو ہر شعبے کے حوالے سے نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
امارات نیوز ایجنسی (وام) کو ایک بیان میں،الزعابی نے بتایا کہ جائزے کے مطابق متحدہ عرب امارات کا قومی اے ایم ایل سی ٹی ایف نظام مضبوط، تیزرفتار ردعمل کا حامل اور موثرترین ہے۔
اس عرصے کے دوران، متحدہ عرب امارات نے نیشنل ایکشن پلان اور نیشنل اے ایم ایل/ سی ٹی ایف حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھا اور غیر قانونی مالی اعانت سے نمٹنے اور عالمی مالیاتی نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے ایجنڈے پر سختی سے عمل پیرا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کوششوں کی وجہ سے کارکردگی کے اہم اشاریوں بشمول ایس ٹی آرز/ ایس اے آرز،عملدرآمد کی کاررائیوں،نگران حکام کی طرف سے معائنوں، اور ضبطیگیوں میں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے مارچ 2023 سے جولائی 2023 کے وسط تک 1.309 بلین درہم کامیابی کے ساتھ ضبط کیے ہیں۔
الزعابی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا پتہ لگانے، تفتیش کرنے اور انہیں سمجھنے کے لیے اپنی طویل مدتی، پائیداراے ایم ایل / سی ٹی ایف صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہوئے اپنے بین الاقوامی تعاون کو مزید بہتر کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کو یوریشیا گروپ پلینری میں شرکت کے بعد ایشیا/بحرالکاہل گروپ پلینری میں باضابطہ مبصر کا درجہ دیا گیا۔ ملکی سطح پر متحدہ عرب امارات ایف آئی یو نے ابوظہبی میں ایگمونٹ گروپ کے 2023 کے سالانہ اجلاس کی میزبانی کی یہ عالمی تنظیم ایف آئی یوز کے 170 رکن ممالک کے درمیان معلومات، علم اور تعاون کے تبادلے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔
ای او اے ایم ایل سی ٹی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پہلی سہ ماہی کی کامیابی میں ای او اے ایم ایل/ سی ٹی ایف کی قیادت میں یو اے ای کے وفد نے پہلی بار فیٹف طرز کے علاقائی اداروں ایشیا/پیسفک گروپ ( اے پی جی) اور یوریشیا گروپ (ای اے جی) کے اجلاسوں میں شرکت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی اداروں (ایف آئیز) اور نامزد غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ وراداروں (ڈی این ایف پی بیز) کے نگرانوں نے 199ملین درہم سے زیادہ کے اجتماعی جرمانے عائد کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے مارچ 2023 سے جولائی 2023 کے وسط تک1.309ارب درہم سے زیادہ کی رقم بھی ضبط کی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی سے دوسری سہ ماہی تک، یو اے ای نے کل ایس ٹی آرز میں 17فیصد اضافہ رپورٹ کیا۔ اس مدت کے دوران، ڈی این ایف بی پی کی سب مشنز میں 14فیصد اور ڈی پی ایم ایس کی سب مشنز میں 23فیصد اضافہ ہوا۔
الزابی نے وضاحت کی کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میںکئے گئے معائنوں کی تعداد پہلی سہ ماہی کی نسبت 108 فیصد اضافے کے ساتھ 69ہزار407 رہی جو گزشتہ سال کئے گئے 67ہزار97 معائنوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کیا کہ ٹارگیٹڈ فنانشل سینکشنز (ٹی ایف ایس) اور ٹیررسٹ اینڈ پرولیفریشن فنانسنگ( ہی ایف/ ٹی ایف) سے متعلقہ ایس ٹی آرز / ایس اے آرزکی ایف آئی یو کو نجی شعبے کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ تا جون 2023 کے اعدادوشمار پچھلی رپورٹنگ کی مدت کے مقابلے میں 93 فیصد کا تخمینہ اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ 2023 سے، کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے ایگزیکٹو آفس (ای او اسی این) نے ٹی ایف / پی ایف پر تقریباً 4000 نجی اور سرکاری شعبے کے پیشہ ور افراد کے لیے چار تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا۔
ڈائریکٹرجنرل کے مطابق، متحدہ عرب امارات مالی اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔ اس میں متحدہ عرب امارات اور دیگر دائرہ اختیار کے درمیان تحقیقات، گرفتاریوں اور حوالگی کے معاہدوں کے کئی ہائی پروفائل کیسز شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 45 باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں (ایم ایل اے) پر کامیابی کے ساتھ دستخط کیے ہیں جو وزارت انصاف کی طرف سے مجرمانہ معاملات میں بین الاقوامی عدالتی تعاون کے حوالے سے کی گئی کوششوں کے مطابق ہیں۔ ترکیے کے ساتھ ایک ایم ایل اے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، اور مزید معاہدوں کی تیاری جاری ہے ۔
انہوں نے بتایا کیا کہ متحدہ عرب امارات نے باہر جانے والی ایم ایل اے کی درخواستوں اور تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ (ایم ایل)، تھرڈ پارٹی ایم ایل، غیرملکی امکانی جرائم اور بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف دیگر درخواستوں کو ترجیح دی۔مارچ 2023 سے جولائی 2023 کے وسط تک، متحدہ عرب امارات نے 34 دیگر ممالک کو 82 آوٹ گوئنگ ایم ایل اے کی درخواستیں بھیجیں۔ 2022 میں، متحدہ عرب امارات نے 72 ممالک کو 290 آوٹ گوئنگ ایم ایل اے کی درخواستیں بھیجیں۔ 2023 کی پہلی ششماہی کے لیے، متحدہ عرب امارات نے 119 آوٹ گوئنگ ایم ایل اے کی درخواستیں 40 سے زیادہ دائرہ اختیار میں بھیجی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2023 کی پہلی ششماہی کے لیے، متحدہ عرب امارات کو 202 آنے والی ایم ایل اے کی درخواستیں موصول ہوئیں اور 130 ایم ایل اے درخواستوں (تقریباً 73فیصد) کے جوابات فراہم کیے گئے، جب کہ بقیہ 71 پر فی الحال متعلقہ پی پیز کے ذریعے کارروائی کی جا رہی ہے۔ جون 2023، ایک آنے والے ایم ایل اے کو متعلقہ غیر ملکی دائرہ اختیار کے ذریعے واپس لے لیا گیا۔ 2022 میں نظر آنے والے مثبت رجحانات کو جاری رکھا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق، متحدہ عرب امارات ملک گیر اور علاقائی نگرانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اہم وسائل میں سرمایہ کاری کررہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایف آئیز اور ڈی این ایف بی پیز اے ایم ایل / سی ایف ٹی کی شرائط پر پورا اترتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فروری سے جولائی 2023 تک، متحدہ عرب امارات نے اپنی رسائی اور آگاہی بڑھانے کے اقدامات میں تیزی کو جاری رکھا ہے، جس میں سرکاری اور نجی شعبوں کے 18,000 سے زائد اہلکاروں کے لئے 12 سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 14 جولائی تک، ایم او ای نے ہائی رسک ڈی این ایف بی پیز کے 52%فیصد (3,360 میں سے 1,737) آن سائٹ فل اسکوپ انسپیکشن مکمل کر لیے ہیں اور سیکٹرز کے خطرات اور سائز کی بنیاد پر سائٹ پر ان انسپیکشنز کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایف آئیزاور ڈی این ایف بی پیز کے نگرانوں نے روں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 199 ملین درہم کے مجموعی جرمانے کیے، جو کہ سال 2022 (76.2 ملین درہم)، 2020 (8.4 ملین درہم ) اور 2019 (8لاکھ درہم ) سے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ 2023 اور جون 2023 کے درمیان، مرکزی بینک نے 30 آن سائٹ جائزے مکمل کیے اور اس سال 57 آن سائٹ جائزوں کو حتمی شکل دی۔ رپورٹنگ کی موجودہ مدت کے دوران کئے گئے معائنے کے نتیجے میں 385 اصلاحی کارروائیوں کی نشاندہی کی گئی، اور مرکزی بینک کے ریگولیٹڈ اداروں کو 28 اصلاحی تخفیف کے منصوبے جاری کیے گئے۔
الزعابی نے وضاحت کی کہ نگران حکام اپنے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تحقیقات اور استغاثہ

الزعابی کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ایم ایل جرائم کی مؤثر طریقے سے تحقیقات اور متناسب پابندیاں لگانے کے نظام میں مزید بہتری آرہی ہے اور مزید مجرمانہ رویوں کو روکنے کے لیے اسے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کوششوں میں اضافی تفتیشی ٹولز کا نفاذ اور بہتر تفتیشی طریقے اور تکنیک شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال مارچ اور وسط جولائی کے درمیان، بڑے پیمانے پر، پیچیدہ ایم ایل کیسز کی تحقیقات اور پراسیکیوشن کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران متعلقہ تفتیشی اور استغاثہ حکام کی جانب سے قومی سطح پر 183 ایم ایل کیسز شروع کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ایم ایل کیسز میں سے 51 کیسز فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (ایف آئی یو) کی تقسیم پر مبنی تھے۔ پبلک پراسیکیوشنز (پی پیز) کے ذریعے 164 مقدمات کی عدالتی تفتیش کی گئی۔ اور اس نظرثانی کی مدت کے دوران 99 مقدمات عدالت میں بھیجے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے مارچ 2023 سے جولائی 2023 کے وسط کے درمیان ایم ایل کیسز میں سزا سنانے کی 92.1 فیصد شرح برقرار رکھی ہے، اسی عرصے کے دوران 76 سزائیں سنائی گئیں۔ تقریباً 45.3 فیصد پولیس تحقیقات رسمی اور غیر رسمی بین الاقوامی تعاون سے کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی رقم کو ضبط کرنا متعلقہ حکام کی اعلیٰ ترجیح رہی ہے تاکہ مجرمانہ رقوم کو ضبط کر لیا جائے اوراس رقم کو مزید مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے دوبارہ مالیاتی نظام میں داخل ہونے سے روکا جائے۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران، ہم نے یہ ظاہر کیا کہ کس طرح مالیاتی انٹیلی جنس متعلقہ حکام میں ایم ایل اور ٹی ایف کی تحقیقات میں مؤثر طریقے سے مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یو اے ای نے ایف آئی یو کی صلاحیتوں اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی اور مالیاتی جرائم کے پراسیکیوشن میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی یو نے تعمیل، بینکنگ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحقیقات میں متعلقہ تجربہ رکھنے والے اعلیٰ تجربہ کار پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرکے ٹیم کو بہتر بنانے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔
الزعابی نے اس بات پر زور دیا کہ 183 نئے ایم ایل کیسز کو متعلقہ تفتیشی اور استغاثہ حکام نے قومی سطح پر ریفر کیا ہے، جس سے تفتیشی اور استغاثہ کے حکام کی معلومات کے دیگر ذرائع کو استعمال کرنے اور متوازی مالی تحقیقات کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی یو میں غیر ملکی ایف آئی یوز سے تجزیہ کی معلومات شامل ہوتی ہے اور تحقیقات اور استغاثہ کے حکام کو اعلی خطرے والے ایم ایل کا مسلسل تعاقب کرنے کے لیے مالیاتی انٹیلی جنس فراہم کی جاتی ہے۔ مزید برآں، غیر ملکی یاف آئی یوز اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
الزعابی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ٹی ایف اور پی ایف کے خطرات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انتہائی ترجیحی کوششیں اور سرگرمیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ دہشت گردوں کے مالی معاونین کو فنڈز اکٹھا کرنے سے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مصروف اداروں اور افراد کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ EOCN TF/PF پر نجی اور سرکاری شعبوں تک جامع رسائی کو ترجیح دیتا ہے۔ مارچ 2023 سے، چار تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے جن میں 4,000 شرکاء نے شرکت کی ہے، جن میں بنیادی طور پر بین الاقوامی سی پی ایف ذمہ داریوں، تعمیل کے بہترین طریقوں، اور ٹائپولوجیز پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ایف ایس پی ایف/ ٹی ایف - متعلقہ ایس ٹی آرز/ ایس اے آرز کی ایف آئی یو کو نجی شعبے کی رپورٹنگ میں گزشتہ دو رپورٹنگ ادوار کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ سے جون 2023 کے اعدادوشمار پچھلے دو رپورٹنگ ادوار (جولائی – اکتوبر 22 اور نومبر 22 تا 23 فروری) کے مقابلے ایس ٹی آرز میں تقریباً 93فیصد اور 96فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپروائزرز اور تمام اے ایم ایل / سی ایف ٹی اے ای ایل/ سی ایف ٹی اتھارٹیز اکتوبر 2022 میں شروع کی گئی دوسری قومی رسک اسیسمنٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے جاری عمل میں فعال طور پر ہم آہنگی اور حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمہ۔تنویرملک
https://wam.ae/en/details/1395303198526